نئی دہلی،15؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)’رَبّی‘ ہندوستان کی جنت کہے جانے والے کشمیر کے ایک نوجوان کی کہانی ہے، جو مسلمان ہونے کے باوجود موسیقار بننا چاہتا ہے۔ اس کے ارادے اور حوصلے کسی بندش کے محتاج نہیں ہے لیکن والدین کی موسیقی کے تعلق سے شدید ناراضگی ہے جو’ربی‘ کے پیرو ں کی بیڑیاں بنی ہوئی ہیں۔ آج ہندوستان بھر کے متعدد شہروں میں ریلیز ہوئی اس فلم کی کہانی ربی اور اس کا موسیقی کے درمیان محبت کے ارد گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ راحت کاظمی کے ہدایتکاری میں بنی اس فلم میں وہ سب کچھ ہے جسے دیکھنے کے لئے شائقین فلم دیکھنے سنیماگھروں کا رخ کرتے ہیں۔اس فلم میں سری نگر کے حالات اوروہاں رہنے والے لوگوں کی زندگی، مسلم کمیونٹی کے لوگوں کے بیچ اورموسیقی سے محبت ا س جیسے ماحول میں سب کچھ دکھا نے کی کوشش کی گئی ہے اور ناظرین کو سنیماگھروں میں گھسیٹنے کو مجبور کر تی ہے ۔ فلم ’ربی ‘کے ریلیز کے دوران ساکیت مال میں پریس بریفنگ کے دوران بالی ووڈ اداکارہ اورحالی ہی میں نواز الدین صدیقی کے ہمراہ بابو مشائے میں اہم کردار ادا کر نے والی بدیتا باغ نے اپنے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بابومشائے بندوق باز اور ربی دونوں فلمیں مختلف ہیں، جہاں پہلی فلم میں میں بولڈ اوتار میں نظر آئی تھی وہیں ’ربی‘ میں میرا کردار ایک مذہبی لڑکی کا ہے جو خواتین کو قرآن کی تعلیم دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فلم میں ربی ان کے چچا زاد بھائی ہیں جو ایک روک اسٹار بننا چاہتا ہے لیکن اسے یہ بتا کر موسیقی چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ اسلام میں موسیقی حرام ہے اور ربی کو سرکاری نوکری کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔بدیتاباغ جو رافعہ نامی لڑکی کا کردار ادا کر رہی ہے وہ بتاتی ہے کہ وہ بچپن سے ہی ربی کو سپورٹ کرتی آئی ہے ان کا یہی خواب ہوتا ہے کہ وہ ایک رو ک اسٹار بنے جسکے لئے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہے ان سب باتوں سے الگ وہ دل ہی دل بھی مان لیتی ہے کہ ان کی شادی ربی سے ہی ہونی ہے۔جتیش کمار فلمز کے بینر تلے ربی فلم میں اہم کر دار ادا کر رہے فرقان مرچینٹ نے بتایا کہ کئی سینےئرادا کاروں کی اداکاری سے سجی اس فلم میں فلم میں4گا نے ہیں ہیں اوربیشتر اداکارقومی ایوارڈ یافتہ ہیں اور ہمیں خوشی ہے کہ فلم کی ریلیزہونے سے قبل ہی فلم کوشائقین ہی نہیں بلکہ فلم انڈسٹری سے وابستہ معروف ہندایت کاروں اوراداکاروں نے سراہناکی تھی ۔